Khwab Mein Nabi Ki Ziyarat | Hazoor Pak Hazrat Muhammad Mustafa Saw Ko Dekhna

khwab mein nabi ki ziyarat karne ki tabeer agar nabi pak saw ko khwab mein dekhna tu waqi app ne hazoor pak hazrat muhammad mustafa saw ko dekha hai. q k hadees mein hai k rasool allah sallallahu alaihi wasallam ne irshad farmaya k jis ne mojeeh khwab mein dekha waqi is ne mojeeh khwab mein dekha hai. q k shaitan mardood meri soorat ikhteyar nahi kar sakta.
mazed tafsel k liya yah video dekhey.
the interpretation of seeing the prophet in a dream
watch this video.

   


 More Videos To Subscribe Channel

خواب میں زیارتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سعادت حاصل کرنے کی تعبیر کے لیئے ویڈیوں دیکھے یا تفصیل کے لٰیئے اس پوسٹ کو آخرتک ملاحظہ کریں۔

خواب میں زیارتِ رسول کی احادیث: (۱) مَنْ رَآنِيْ فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِيْ (۲) مَنْ رَآنِيْ فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَأی الحق کے پیش نظر محققین اور جمہور علماء فرماتے ہیں کہ جس حُلیہ میں بھی دیکھا اور دل نے کہا کہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو واقعتا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دیکھا ہے، جو دیکھنے والے کے حق میں سعادت ہے، اس میں انسان کے اختیار کو دخل نہیں ہے۔ (فیض الباری ص ۲۰۳/ج۱)


زیارتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سعادت اختیاری نہیں ہے
                خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت واقعی ایک عظیم سعادت اور معنوی دولت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا، تحقیق کہ اس نے حق دیکھا یعنی واقعی اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دیکھا، دوسری حدیث میں ہے جس شخص نے مجھ کو خواب میں دیکھا اس نے حقیقت میں مجھ کو ہی دیکھا؛ اس لیے کہ شیطان میری صورت نہیں بناسکتا، ایک اور حدیث میں ہے جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا، وہ عنقریب مجھے بیداری میں دیکھے گا؛ اس لیے کہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا؛ لیکن یہ نعمت محض عطیہٴ خداوندی ہے، بندہ کے کسب واختیار کو ہرگز دخل نہیں ہے (فیض الباری) اور ایمان وعملِ صالح نہ خواب کی شرط ہے، نہ ہی کفر وفسق اس کے لیے مانع ہے اور نہ ہی نبی کے اختیار میں ہے کہ وہ کسی کے خواب میں آکر اس کی بشارت وسعادت کا ذریعہ ہوں اور جب نبی کے اختیار میں نہیں تو کسی بھی ولی کو کب یہ اختیار مل سکتا ہے؟ بلکہ محض قادرِ مطلق، فاعلِ مختار اور علیم وخبیر ذات اپنے بندوں میں سے جس کو جب، جہاں اور جس قدر سعادت سے نوازنا چاہے، وہ اپنی قدرت وارادہ سے اس کے اسباب پیدا کردیتی ہے، خواب بھی ایک سبب بن جاتا ہے، جو من جانب اللہ پیش آتا ہے، اس کا نہ کوئی معمول ہے، نہ اس کے لیے کوئی زمان ومکان متعین ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے والوں کی چار حالتیں ہیں: (۱) حالت خواب میں چشمِ دل سے (۲) خواب و بیداری کی درمیانی حالت میں چشمِ دل سے (۳) بحالتِ بیداری چشم دل سے بطور مکاشفہ کے (۴)بحالتِ بیداری چشمِ ظاہر سے مکاشفہ کی انتہائی نادر صورت۔ خواب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت عوام و خواص ہر ایک کو ہوتی ہے۔ بیداری وخواب کی درمیانی حالت میں زیارت اہلِ تقویٰ یعنی خواص امت کو ہوتی ہے ۔ اور بیداری میں زیارت اگرچہ ممکن ہے؛ مگر یہ اخض الخواص لوگوں کو ہوسکتی ہے، جیساکہ علامہ انور شاہ کشمیری کا بیان فیض الباری میں ذکر کیا ہے اور شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے مدارج النبوہ میں لکھا ہے۔ ان چاروں میں سے صرف پہلی صورت میں رویت (دیدار) کی ضامنت لی گئی ہے اور سماعِ کلام کی ضمانت کسی بھی حالت میں نہیں ہے۔

رویت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ضمانت اور دل کی شہادت
 
                خواب میں زیارتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کسی نے حضرت تھانوی سے سوال کیا کہ یہ کیسے معلوم ہو کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں؟ فرمایا کہ علمِ ضروری (بدیہی) کے طور پر اگر قلب گواہی دے دے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو بس کافی ہے(سیرت النبی ص ۴۸/ نشرالطیب)

                یعنی دیکھتے ہی بغیر تأمل کے دل میں آجائے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو یقینا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا؛ اس لیے خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت اللہ تعالیٰ نے ہر انسان ہی نہیں؛ بلکہ کائنات کی ہر شے میں ودیعت فرمائی ہے، جیسا کہ احادیث وواقعات شاہد ہیں، مثلاً ابوجہل مٹھی میں کنکر لے کر آیا اور کہا اے محمد! بتاؤ میری مٹھی میں کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کہوں کہ تیری مٹھی میں کیا ہے یا تیری مٹھی میں جو ہے وہی بتادے کہ میں کیا ہوں؟ بس کنکر نے کلمہٴ شہادت پڑھا (دلائل النبوة) یہی وجہ ہے کہ خواب میں دیکھنے والے کا صرف یہ خیال کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہے، حق ہونے کے لیے کافی ہے یعنی اس نے نبی کو ہی دیکھا ہے، پس یہ احتمال صحیح نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھے اور نہ پہچانے۔ ورنہ زبانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف رویت کی ضمانت نہ ہوتی۔ (ملحوظ رہے کہ پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رویت کے صحیح ہونے کی اطلاع دی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ جو کچھ میں خواب میں کہوں گا وہ بھی حق ہے (نوادراتِ کشمیری ص ۲۹۲) یہ رویتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے۔

سماعِ کلام کی ضمانت نہیں ہے

                جہاں تک کلامِ نبی کے سننے کا مسئلہ ہے تو فقہائے محدثین فرماتے ہیں کہ خواب میں دیکھنے والا اگر کچھ کلام بھی سنتا ہے تو اسے قرآن وحدیث پر پیش کیا جائے گا، اگر شریعت کے خلاف ہے تو اس کا اعتبار نہیں ہے۔ پس عمل قرآن وسنت ہی پر کیا جائے گا؛ اس لیے کہ شیطان کو نبی کی صورت گھڑنے کی تو مطلقاً قدرت نہیں ہے؛ مگر آواز میں تصرف کرسکتا ہے اور دیکھنے والے کے دل میں یہ خیال ڈال سکتا ہے کہ وہ یہ سمجھے کہ نبی کا کلام سن رہا ہے؛ کیونکہ حدیث شریف میں خواب میں رویت کی ضمانت لی گئی ہے، سماع کلام کی ضمانت نہیں ہے۔

                (۱) علامہ انور شاہ کشمیری کا بیان ہے وَلَمَّا ضَیَّقَ الأوَّلُوْنَ فِيْ رُوٴیَتِہ وَقَیَّدُوْہَا بِتَقْیِیْدَاتٍ وَسَّعُوْا فِيْ اِعْتِبَارِ أقْوَالِ الْحُلْمِیَّةِ بِخِلَافِ الْجُمْہُوْرِ فَانَّہُمْ اذَا وَسَّعُوْا فِيْ أمْرِ الرُّوْیَةِ ضَیَّقُوْا فِي اعتبارِ تِلْکَ الأقْوَالِ وَلٰکِنَّہَا تُعَرَّضُ عَلی الشَّرِیْعَةِ عِنْدَ جِمِیْعِہِمْ فَانْ وَافَقَت قُبِلَتْ وَالَّا فَلاَ (فیض الباری ج۱، ص۲۰۳) یعنی خواب میں رویتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سلف کی ایک جماعت کا نظریہ سخت احتیاط والا تھا کہ خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھنا اسی وقت معتبر ہوگا جب کہ دیکھنے والا اس حلیہ میں دیکھے جو شمائل میں مذکور ہے، اس میں ذرا بھی فرق آیا تو کہہ دیتے کہ اس نے نبی کو نہیں دیکھا، اتنی شدت وہ کلام میں نہیں کرتے تھے۔ بخلاف جمہور کے کہ انھوں نے رویت کے بارے میں وسعت کردی کہ خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس حلیہ میں دیکھا اگر اس کے دل میں آیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہے تو بس واقعی اس نے نبی کو دیکھا؛ البتہ سنے ہوئے کلام کے اعتبار میں شدت اختیار کرتے ہیں کہ دیکھنے والے نے جو کلام سنا ضروری نہیں کہ وہ نبی کا کلام ہو؛ کیوں کہ شیطان خواب میں بھی آواز میں مشابہت کرکے مغالطہ میں ڈال سکتا ہے؛ لیکن اس پر سب متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جو کچھ فرمایا وہ شریعت کی کسوٹی پر پرکھے جائیں گے۔

                (۲) شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں: علمائے محققین نے فرمایا کہ خواب میں حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا کلام آپ کی سنت کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیے، اگر سنت کے موافق ہے تو صحیح ہے اور اگر مخالف ہے تو خواب میں دیکھنے والے کی سماعت کا قصور ہے (سیرت ص ۳۳ بحوالہ فیض الباری)

                (۳) شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی خواب میں رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے سے متعلق کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ تو ممکن نہیں کہ شیطان خبیث اپنی صورت آپ کی سی صورت بناسکے اور خواب میں دکھاسکے؛ البتہ مغالطہ دے سکتا ہے اور صحیح خواب میں بھی کبھی شیطان ایسا کرتا ہے کہ آپ کی آواز اور بات کے مشابہ شیطان بات کرتا ہے اور وسوسہ ڈالتا ہے (فتاویٰ عزیزی، ص۳۸۵ بحوالہ مقدمہ سیرت، ص۴۲)

                (۴) امام نووی نے تہذیب الاسماء واللغات کے شروع میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں لکھا ہے کہ شیطان آپ کی صورت اختیار نہیں کرسکتا؛ لیکن اس خواب دیکھنے والے نے اگر کوئی چیز خواب میں احکام سے متعلق سنی تو اس پر عمل جائز نہیں ہے، نہ اس وجہ سے کہ خواب میں کوئی تردد ہے؛ بلکہ اس وجہ سے کہ دیکھنے والے کا ضبط معتمد نہیں ہے (سیرت النبی ص۴۵)

                (۵) ابن امیر حاج مدخل میں لکھتے ہیں: اس سے بہت احتراز کرنا چاہیے کہ خواب میں یا غیبی آواز سے جاگتے میں کسی ایسی چیز کی طرف قلب کو طمانینت اور سکون ہو جو صدر اوّل کے خلاف ہو (سیرت ص ۴۴)

                (۶) فَمَا ثَبَتَ عَنْہُ یَقْظَةً لَا یُتْرَکُ بِمَا رأیٰ مناماً آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو احوال اور احکام بیداری میں یعنی آپ کی حیاتِ طیبہ میں ثابت ہوچکے ہیں اسے خواب میں دیکھے اور سنے ہوئے کلام کے ذریعہ ترک نہیں کیا جائے گا (فیض الباری)

                (۷) شاہ ہدایت علی جے پوری نقشبندی لکھتے ہیں: جو کشف یا خواب یا آوازِ غیب، خلاف قرآن وحدیث پاک کے ہو وہ قطعی ماننے کے لائق نہیں اور جس کشف ، ادراکِ خواب، یا واقعات کی تصدیق قرآن پاک اور حدیث شریف سے ہو وہ قابل ماننے کے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ اس عالم شہادت میں فرماچکے ہیں، اس کے خلاف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہیں فرمائیں گے۔ اسی واسطے تمام علمائے حقانی وعرفائے ربانی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اپنے کشف کو اپنے خوابوں کو قرآن وحدیث کی کسوٹی پر اور جو کسوٹی پرکھرے اترے وہی کھرے ہیں ورنہ کھوٹے (فتوح الحرمین ص۵۵،۵۸)

 کذب علی النبی کی وعید اور اس کی حرمت

                انَّ مَذْہَبَ أہْلِ الْحَقِّ أنَّ الْکِذْبَ ہُوَ الْاخْبَارُ عَنِ الشَّيْءِ بِخِلاَفِ مَا ہُوَ عَمَدًا کَانَ أو سَہْوًا أو غَلَطاً (نووی) یعنی خارج میں جو حقیقت یا جو شئے جس طرح سے ہے، اس کے خلاف خبر دینا اگرچہ بلا ارادہ ہو ”کذب“ کہلاتا ہے اور قصداً ایسا کرنا گناہ کبیرہ ہے اور جاننا چاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خلافِ واقعہ کوئی فعل، یا کلام کی نسبت کرنا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بیان کرنا؛ حالانکہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پیش نہیں آیا ہے، یہ کذب علی النبی کہلاتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولنا اکبر الکبائر میں سے ہے، اس پر جہنم کی سخت وعید آئی ہے۔

                حدیث شریف میں ہے مَنْ حَدَّث عَنّی حَدِیْثًا یرٰی أنَہُ کَذِبٌ فَہُو احَدُ الکاذبین․ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی بات نقل کرے دراں حالے کہ وہ سمجھ رہا ہے کہ خلاف واقعہ ہے تو یہ شخص جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کفیٰ بالمَرءِ کَذِبًا اَنْ یَقُولَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ ہر سنی ہوئی بات کو کہا کرے۔ اسی طرح یہ بھی حدیث میں ہے ان اَفرَی الفِرٰی اَن یُوِیَ عَینَیہ مالم تَرَیا یعنی جو واقعہ خواب میں نہیں دیکھا ہے، اس کو خواب کی طرح بیان کرنا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ نیز حدیث شریف میں ہے لَا تَکْذِبُوا عَلَیّ فَانَّہ مَن یَّکْذِبُ عَلَیَّ یَلِجُ النَّارَ، مجھ پر جھوٹ نہ بولو؛ اس لیے کہ جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے گا، وہ جہنم میں داخل ہوگا، نیز حدیث شریف میں ہے انَّ کذباً علَیّ لَیْسَ کَکَذِبٍ علیٰ احدٍ فَمَنْ کَذَبَ علَیّ مُتعمّدًا فَلْیَتَبَوَّأَ مَقْعَدَہ مِنَ النَّاِر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر جھوٹ بولنا ایک دوسرے پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے، پس جس نے مجھ پر عمداً جھوٹ کہا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ یہ حدیث من کذب علی متعمدًا الخ متواتر ہے اور کذب علی النبی کی حرمت پر امت کا اجماع ہے، خواہ کذب کا تعلق احکام سے ہو یا فضائلِ اعمال سے (مقدمہ مسلم مع شرح النووی) اور جب دین میں حرام ہے تو کسی شخص کی ذاتی فضیلت اور خصوصیت کے لیے جھوٹے واقعہ کی نسب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا بدرجہٴ اولیٰ حرام ہوگا۔


No comments:

Post a Comment

asalam o alikum:
apnay khwab ki tabeer jane k liya
apna nam, age, jaga, khwab ka waqat, jo bih khwab dekha hai. is ko full bata dey waqat mila insha allah tafsel se aap ki khwab ka tabeer bata den gay.
sab se pahle hamari website aur youtube channel par apnay khwab ki tabeer talash kar k dekh lay shokreya